21 مارچ 2012 - 19:30

پاکستان کےوزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ان کے وکیل اعتزاز احسن نے سماعت کے دوران عدالتی بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقدمہ "مس ٹرائل" کی جانب بڑھ رہا ہے اور عدالت نے پہلے سے ہی ذہن بنا رکھا ہے۔

ابنا: بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کے سامنے وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے سے پہلے ہونے والی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے چھ آپشنز پیش کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن بنچ نے سب سے سخت آپشنر چنتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ اعتزاز احسن کے مطابق حکم نامے کے آخری آپشن کو استعمال نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ این ار او پر عملدرآمد کے مسئلے سے نمٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنا رکھا ہے۔ اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کبھی نہیں کہا کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن صدر آصف علی زرداری ملک کے سربراہ ہیں اس لیے فی الوقت ان کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔ عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔
 .......
/169